بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ حالیہ حملوں کے دوران جاری ہونے والے نئے شواہد اور تصاویر نے ایران کے خلاف جارحیت میں متحدہ عرب امارات اور کویت کے عملی کردار کے بارے میں اہم شواہد طشت از بام کر دیئے ہیں۔ یہ دستاویزات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دونوں ممالک نے نہ صرف اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکی حملوں کی حمایت کی ہے بلکہ خود بھی امریکی ایجنڈے کے مطابق، براہ راست حملوں میں شریک رہے ہیں۔
بندرعباس میں ڈرون حملے کی ایک ویڈیو کی اشاعت نے ایک بار پھر امارات کے فوجی کردار کو بے نقاب کردیا ہے۔
ان تصاویر میں امارات میں تیار ہونے والے "یابھون" (Yabhon) خاندان کا ایک ڈرون علاقے کی فضا میں اڑتا ہؤا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ موقع پر موجود فورسز ہلکے ہتھیاروں سے اس پر فائرنگ کر رہی ہیں۔
ان تصاویر کے جاری ہونے کے بعد تفتیش ہوئی تو ڈرون کی شناخت ہوئی اور اس کی توثیق بھی ہوئی اور ثابت ہؤا کہ ابوظہبی اپنی غیرجانبداری کے دعوؤں اور وعدوں کے برعکس ایران کے خلاف حملوں میں عملی کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ پہلی دستاویز نہیں ہے جو ایران کے خلاف امریکی جنگ میں امارات کی فوجی مداخلت کو ثابت کرتی ہے۔ اس سے قبل 40 روزہ جنگ کے دوران کم از کم دو ونگ لانگ (Wing Loong) جنگی ڈرونوں کی موجودگی اور انہیں مار گرائے جانے کے علاوہ لاوان ریفائنری پر اماراتی میراج 2000 طیاروں کے بمباری کے واقعات بھی ریکارڈ پر ہیں، جو ابوظہبی کے عملی کردار کو واضح کرتے ہیں۔
دستیاب شواہد کے مطابق، امارات کے ایف-16 طیاروں کے ایران کی سرزمین کے اندرونی حصوں پر حملوں میں ملوث ہونے کا قوی امکان ہے۔ ان طیاروں نے امریکی ایف-16 طیاروں سے ہم آہنگ ہو کر اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی ہے۔
دوسری جانب، کویت سے جاری ہونے والی اطلاعات اور تصاویر کے مطابق، یہ ملک امریکہ کو اپنی سرزمین فراہم کرکے ایران کے خلاف حملے کا ذریعہ بنا ہؤا ہے اور امریکی میزائل حملوں کا مبدأ (source or origine) قرار پایا ہے۔ کویت اس طرح ایران کے خلاف جارحیت میں فعال معاون کے طور پر سامنے آیا ہے۔
یہ انکشافات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ایران نے اپنے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں میں کمانڈ سینٹرز، ابتدائی انتباہی نظاموں اور دفاعی نیٹ ورکس جیسے اسٹراٹیجک اہداف کو نشانہ بنانے پر مبنی نئی عسکری حکمتِ عملی اپنائی ہے، جس کا مقصد حملے کے "مرکز" کو تباہ کرنا ہے نہ کہ صرف انفرادی آلات کو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ